55

دنیاکاسب سے بڑابدمعاش امریکہ (کالم نگار : عبدالقیوم خان نیازی)

بحیثیت مسلمان میراایمان ھے کہ جس کی موت جہاں لکھی ھے آکررہیگی۔اورمجھ سمیت کوئی بھی مسلمان موت سے نہیں ڈرتاہاں موت کاجب بھی زکرآتاھے تومسلمان ہمیشہ مجھ سمیت عاجزی کیساتھ دعامانگتاھے کہ یااللہ مجھے شہید کی موت دینا۔
آج اگرکسی کے سامنے کوئی شریف یاکمزور بزرگ کوتھپڑمارے تومجھ سمیت کوئی برداشت نہیں کریگالیکن اگرکسی گاؤں یاشہرکابڑابدمعاش ایساکرے توہم گلی بھی بدلنے میں دیرنہیں کرینگے ۔
کسی معصوم کوکوئی عام شخص سرراہ چلتے مارناپیٹناشروع کردے ایک ہنگامہ کھڑاھوجائیگا۔۔لیکن
اگربدمعاش ایساکرے توہم کہینگے بچے کاکوئی خاص قصورھوگاالٹاہم بدمعاش کی سپورٹ کرنےاسکے گیت گاتے رہینگے ۔کیونکہ بدمعاش جوہے ۔یہیں میں اختلاف کرتاھوں کہ کیاہم اتنے کمزورہیں کہ ہم طاقت وراوربدمعاش کونہ توبرابھلاکہتے ہیں اورنہ اسکےمظالم کوکسی کےآگے بیان کرتے ہیں کہ شاید بدمعاش کوپتہ چل گیاتومیراجینامحال کردیگا۔لعنت ہے ایسی زندگی پر۔جوشخص کمزورپرتوچڑھ دوڑتا ھے لیکن جب بدمعاش ایساکرے توگھونگاھوجاتاھے یہ سب پہلی نشانی کمزورترین مسلمان شخص کی ھے ۔کیونکہ وہ ڈرپوک اوربزدل ھے ۔
عزت زلت، زندگی موت، نفع و نقصان، رزق کی کمی وفراخی غرض سب کچھ اللہ پاک کےہاتھ میں ھے ۔
تومیں اکثرسوچتاھوں اورکانپ جاتاھوں کہ یہ ہمارے اردگردکیاھورھاھے حق بات کرتے ھوئے ہمیں سانپ کیوں سونگھ جاتاھے کیاواقعی ہم بزدل ہیں کہ کمزورپرسے ہماراغصہ اترتاہی نہیں اورظالم جابربدمعاش پرہمیں غصہ تودورکی بات ہم الٹااسکی تعریفیں کےپل باندھتے تھکتے نہیں بس یہی سوال ہمیشہ میراضمیر مجھ سے کرتاھے کہ یہ کیوں ایسامعاشرے میں ھورھاھے ۔
میں ہمیشہ اسکے الٹ چلتاھوں میراایمان کہتاھے کہ مسلمان کوہمیشہ اللہ پاک کی پاک ذات پربھروسہ کرناچاہیے ۔رزق عزت زلت زندگی موت خوشحالی صحت بیماری صرف اسی پاک ذات کےاختیارمیں ھے ہمیں بزدلی کی زندگی نہیں چاہیے ہمیں ایک خوددارمسلمان انسان کی طرح پوری قوت ایمانی کیساتھ صالح اوربدمعاش میں بلاجھجھک امتیازکرناچاہیے ۔
افغانستان کےشہرقندوزمیں معصوم حافظ قرآن بچوں کی دستاربندی کی تقریب میں جس اندازسےامریکہ بدمعاش نے بمباری کرکے ظلم کےپہاڑڈھادیے اقوام عالم کی خاموشی معنی خیزھے ۔اقوام متحدہ ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل ۔مسلم امہ ۔ہیومن رائیٹس کی عالمی تنظیمیں کہاں ہیں ۔
وہ مائیں جنکی گودیں اجاڑ دی گئیں کون حساب دیگاکون لیگا؟
جن بچوں نےاپنے ہاتھوں سے بازاروں سے ہارلیے گھروں میں آکراپنی ماؤں کودیے کہ جب امی جان میں دستاربندی کی تقریب کےبعدگھرآؤنگاآپ مجھے ہارپہنانا۔
وہ ہاراورمالے مسلمان ماؤں کےہاتھوں میں ہی رھ گئے جب بچے گھرآئے توخون میں لت پت انکی لاشیں ان ماؤں کوملیں ۔کیاگزری ھوگی ان ماؤں پرجنکے معصوم حافظ قرآن بچے صرف بدمعاش کےحکم پرخون میں نہلادیے گئے پردنیاخاموش ھے ۔ بدمعاش کوکون لگام ڈالے گا۔
کویت ،عراق،شام،کشمیر،فلسطین کےحالیہ واقعات آپ سب کےسامنے ہیں دنیامیں امن کادرس دینے والےکہاں ہیں ۔اقوام متحدہ کہاں ھے کیاانکویہ مظالم نظرنہیں آرھے ۔اوراگرنہیں آرھے توہمیں خودامت مسلمہ کوسوچناھوگاعالم اسلام کوسوچناھوگاکہ یہ کیاھورھاھے کیاہم اتنے بزدل ہیں کہ امریکہ بدمعاش کےمظالم کوبیان ہی نہ کرسکیں اسکی مزمت نہ کرسکیں عالم اسلام کےلیے اوراقوام متحدہ کےلیے بھت بڑت سوالیہ نشان ہیں ۔
اس کےازالے اورآئندہ کےلیے ایسےمظالم بندکرانےکےلیے پالیسی بیان کرسکیں ۔
نہتے کشمیریوں پرکتنے ظلم کےپہاڑڈھائےجارھے ہیں اورہمارے حکمران انہی کشمیریوں پرظلم کےپہاڑڈھانےوالوں کےساتھ تجارت اورآموں کےتحفے بھیجتے ہیں یہ ہے ہماری حالت ۔موجودہ امریکی حکومت نے دنیاکےکونےکونےمیں مسلمانوں پرمظالم کےریکارڈتوڑدیے ہیں روزکیمرے دکھارھے ہیں آنکھیں ان مظالم کےکلپس دیکھ نہیں سکتی دل باہرآتاھے پراقوام متحدہ سمیت پورے عالم کےامن کی جھوٹی بانسری بجانے والے خودسب سے بڑے بدمعاش ہیں جنہوں نےپورے عالم اسلام کوتڑپاکے رکھ دیاھے ۔مسلمانوں پروہ مظالم کیے جارھے ہیں کہ جسکی مثال نہیں ملتی پرہم خاموش ہیں کہ بدمعاش کوناراض نہیں کرناورنہ ہماراحقہ پانی بندھوجائیگا۔افسوس صد افسوس
پورے عالم اسلام کویکجاھوناپڑیگا۔اتفاق واتحاد کاعملی مظاہرہ کرکے مسلمانوں کوخوف سے باہرنکلناپڑیگا۔کیونکہ موت تواٹل ھے انتخاب آپ اورمجھ پرھے کہ ہم بزدل کی موت مرناچاہینگے یامحمدبن قاسم کاجزبہ لیکرموت کےلیے بےقراررہتے ہیں ۔
دنیاکےکونے کونے میں مسلمانوں پرظلم کےریکارڈ بن رھے ہیں پرہم ہیں کہ روزسکرین پردیکھ کرہم عارضی دنیاوی زندگی میں اتنے مشغول ہیں کہ ہمارے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی ہم اتنے بزدل ہیں کہ کلبھوشن یادیوجاسوس کےبارے آج تک ہماری حکومت نےبیان تک جاری نہیں کیاجوبھت بڑالمحہ فکریہ ھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں