93

کونڈوں کی شرعی حیثیت (سید مصطفی رضوی)

22 رجب، نذر و نیاز امام جعفر صادق علیہ السلام، جو کہ کونڈے کے نام سے جانی جاتی ہے، اس نذر کو کونڈے اس لئے کہاجاتا ہے کیونکہ کہ اس دن مٹی کے خاص قسم کے برتنوں (کونڈوں) میں نیاز کے طور پر کھیر یاکوئی اور میٹھی چیز بنا کر مومنین کو کھانے کے لئے پیش کی جاتی ہے۔
درحقیقت کونڈے کی رسم نذر ہے، لیکن عرف میں کونڈے کے نام سےجانی پہچانی جاتی ہے، اس رسم میں نذر کرنے والے نے (یا منت مانگنے والے نے) اللہ تعالٰی سے عھد کیا ہوتا ہے کہ اگر میری فلاں حاجت پوری ہوگئی تو میں ہر سال 22 رجب کو مومنین کو طعام دوں گا/گی، یا اللہ سے بغیر کسی حاجت کے یہ عھد کیاہوتا ہے کہ میں ہر سال 22 رجب کے دن مومنین کو طعام دوں گا اور اس عمل کے ثواب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کو ہدیہ کروں گا۔ یہاں تک یہ بات واضح ہوگئی کہ کونڈا درحقیقت نذر ہے، درحقیقت اللہ سے کیا گیا عھد و پیمان ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا نذر کرنا (منت ماننا) ، مومنین کو طعام دینا، مومنین کی ضیافت کرنا بدعت ہے۔؟؟
کیا یہ عمل غیر شرعی ہے۔؟؟
نذر قرآن اور روایات سے ثابت ہے اور ہمارے تمام فقھاء نے اپنی اپنی توضیح المسائل میں اس کے احکامات بیان فرمائے ہیں۔
نذر قرآن مجید میں:
1۔ جو کچھ تم خرچ کرویا کوئی نذرمانو، اللہ اسےجانتا ہے۔)سورہ 3، آیت (144)
2۔ اے میرے رب میں نے نذر مانی تیرے لئے، اس بچے کیجو میرے پیٹ میں ہے آزاد۔ پس قبول فرما مجھ سے۔ (سورۃ 3، آیت 35)
3۔ چاہیے کہ یہ لوگ اپنی نذریں پوری کریں۔ (سورۃ 22، آیت 29)
4۔ میں نے اللہ کے لئےروزے کی نذرمانی ہے، پس آج کسی سے کلام نہ کروں گی۔ (سورہ 19، آیت 26)

روایات میں ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام بچپن میں بیمار ہوئے تو امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نےحسنین (ع) کی شفاء یابی کے لئے 3 دن نذر کرکے روزہ رکھا۔
تعریف نذر اوراحکام نذر فقھاء امامیہ کے کلام کی روشنی میں:
نذر کی تعریف:
“نذر” ( منّت) یہ ہے کہ انسان اپنے آپ پر واجب کرلے کہ اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے کوئی اچھا کام کرے گا یا کوئی ایسا کام جس کا نہ کرنا بہتر ہو، ترک کر دے گا۔

نذر کی دو قسمیں ہیں:
1۔ مشروط، مثلاً کہے کہ اگر مریض اچھا ہوگیا تو فلاں کام کو خدا کے لئے انجام دوں گا، اس کو نذر شکرکہتے ہیں یا اگر فلاں براکام کروں گاتو خدا کے لئے کار خیرانجام دونگا، اس کو نذر زجر کہتے ہیں۔

2۔ مطلق، بغیر کسی قید و شرط کے کہے میں خدا کیلیے نذر کرتا ہوں کہ نماز شب پڑھا کروںگا۔( یا امام حسین (ع) کی مجلس منعقد کروں گا یا امام حسین (ع) کی مجلس میں شرکت کرنے والوں کے لئے نیاز کا اہتمام کروں گا)
یہ تمام نذریں صحیح ہیں۔

* نذر میں صیغہ پڑھنا ضروری ہے اور یہ لازم نہیں کہ صیغہ عربی میں ہی پڑھا جائے، لہذا اگر کوئی شخص کہےکہ
“میرا مریض صحت یاب ہوگیا تو اللہ تعالٰی کی خاطر مجھ پر لازم ہے کہ میں دس روپے فقیر کو دوں” تو اس کی نذر صحیح ہے۔

* ضروری ہے کہ نذر کرنےوالا بالغ اور عاقل ہو، نیز اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ نذر کرے۔ لہذا کسی ایسے شخص کا نذر کرنا، جسے مجبور کیا جائے یا جو جذبات میں آکر بغیر ارادے کے بے اختیار منت مانے توصحیح نہیں ہے۔

* جب کوئی شخص اللہ تعالٰی سے عہد کرے کہجب اس کی کوئی معین شرعی حاجت پوری ہوجائے گی تو فلاں کام کرے گا۔ پس جب اسکی حاجت پوری ہوجائے تو ضروری ہے کہ وہ کام انجام دے۔ نیز اگر وہ کوئی حاجت نہ ہوتے ہوئے عہد کرے کہ فلاں کام انجام دے گا تو وہ کام کرنا اس پر واجب ہوجاتا ہے۔

* اگر ایک شخص کوئی عمل بجالانے کی نذر کرے تو ضروری ہے کہ وہ عمل اسی طرح بجالائے، جس طرح اسنے نذر کی ہو۔

لہذا اگر نذر کرے کہ مہینے کی پہلی تاریخ کو صدقہ دےگا یا روزہ رکھے گا یا (مہینے کی پہلی تاریخ کو) اول ماہ کی نماز پڑھےگا تو اگر اس دن سے پہلے یا بعد میں اس عمل کو بجالائے تو کافی نہیں ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص منت مانے کہ جب اس کا مریض صحت یاب ہوجائے گا تو وہ صدقہ دے گا تو اگر اس مریض کے صحت یاب ہونے سے پہلے صدقہ دے دے تو کافی نہیں ہے۔

* اگر انسان حالت اختیار میں اپنی کی ہوئی نذر پرعمل نہ کرےتو کفارہ دینا ضروری ہے۔

* جب کوئی شخص اللہ تعالٰی سے عہد کرے کہ جب اس کی کوئی معین شرعی حاجت پوری ہوجائے گی تو فلاں کام کرے گا۔ پس جب اس کی حاجت پوری ہوجائے تو ضروری ہے کہ وہ کام انجام دے۔ نیز اگر وہ کوئی حاجت نہ ہوتے ہوئے عہد کرے کہ فلاں کام انجام دے گا تو وہ کام کرنا اس پر واجب ہوجاتا ہے۔

* اگر کوئی شخص اپنے عہد پر عمل نہ کرے تو ضروری ہے کہ کفارہ دے،یعنی ساٹھ فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا دو مہینے مسلسل روزے رکھے یا ایک غلام کو آزاد کرے۔(توضیح المسائل آیت اللہ سید علی سیستانی، استفتاءات آیت اللہ سید علی خامنہ ای، توضیح المسائل آیت اللہ مکارم شیرازی) یہاں تک یہ بات ثابت ہوگئی کہ نذر شرعاً جائز عمل ہے بلکہ جب انسان اللہ سے عھد کرے کہ میں فلاں دن روزے رکھوں گا، یا فلاں امام کی مجلس میں شرکت کرنے والوں کے لئے نیاز و طعام کا اہتمام کروں گا تو اس شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس عہد کو پورا کرے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو وہ شخص گناہ گار ہوگا اور اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ آیا مومنین کو طعام دینا، انہیں کھانا کھلانا بدعت ہے؟
کیا یہ عمل روایات معصومین علیھم السلام سے ثابت ہے۔؟
تو آیئے اب ہم چلتے ہیں روایات معصومین علیہم السلام کی طرف۔
روایات معصومین علیھم السلام میں مومنین کو طعام دینے کی بہت تاکید اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔
علامہ باقر مجلسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب “حلیتہ المتقین” اردو ترجمہ مولانامقبول احمد صاحب اشاعت: افتخار بک ڈپو صفحہ 61 بسند معتبر امام جعفر الصادق علیہ السلام سے ایک روایت بیان کرتے ہیں جس کے مطابق:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اکثر عمدہ روٹیوں، نفیس فرینی اور لذیذ حلوہ لوگوں کو کھلایا کرتے تھےاور یہ فرماتے تھے، جب خدا ہمارے لئے فراخی کرتا ہے تو ہم بھی فراخ دلی سے لوگوں کو کھلاتے ہیں اور جس وقت کم میسر آتا ہے اس وقت ہم بھی کفایت برتتے ہیں۔”

چند دیگر احادیث پیش خدمت ہے:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: “جو شخص الله تعالٰی کی محبت میں کسی “مومن”بھائی کو کھانا کھلاتا ہے تو اس کے لئے اس شخص کے مساوی ثواب ہے، جو لوگوں میں سے “فیام” کو کھانا کھلائے۔ راوی کہتا ہےمیں نے پوچھا یہ”فیام” کیا چیز ہے، فرمایا لوگوں میں سے ایک لاکھ افراد۔”( اصول كافي ج2)
امام جعفر صادق علیہ اسلام نے ارشاد فرمایا:”میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے۔ سوائے اُس کو کھانا کھلانے کےاور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے تو اس کا حق یہ ہے کہ اللہ اُسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے۔” ( اصولِ کافی جلد باب اطعام مومن)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: “جو تین مومنین کو کھانا کھلائے گا تو الله اسے تین بہشتوں جنت فردوس، جنت عدن اور جنت طوبٰی میں کھانا کھلائے گا۔” ( اصول كافى، ج 2، باب اطعام مؤمن)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:”کائنات میں الله کے علاوہ، کوئی مخلوق بھی ( خواہ مقرب فرشتے ہوں یا نبی مرسل) الله کی کی طرف سے آخرت میں ملنے والے اس ثواب کو نہیں جانتی ، جو ایک مسلمان کو سیر کرکے کھانا کھلانے کا ہے۔” ( اصول کافی، ج 2، باب اطعام مومن)

ان روایات سے یہ بات واضح خوگئی کہ مومنین کو طعام دیناو کھانا کھلانا بدعت نہیں بلکہ ایک بہت ہی اچھا اور بافضیلت عمل ہے۔

*22 رجب خوشی کا دن*

شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مسار الشیعہ میں 22 رجب کے دن کو مومنین کے لئے خوشی و مسرت کا دن قرار دیا ہے۔

نتیجہ: 22 رجب کا دن مومنین کے لئے خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ لہذا 22 رجب کے دن نذر و نیاز کا اہتمام کرکے مومنین کو طعام دینا، ان کا منہ میٹھا کرانا، ان کی ضیافت کرنا، بدعت نہیں بلکہ انتھائی مطلوب اور مستحب عمل ہے، بلکہ اگر کسی نےاللہ تعالٰی سے عھد کیا ہو، نذر کی ہو کہ میں ہر سال 22 رجب کے دن مومنین کو مدعو کروں گا اور ان کے لئے طعام یا کھانے کا بندوبست کروں گا اور اس عمل کےثواب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کو ہدیہ کروں گاتو اپنی اس نذر کو، اس عھد کو پورا کرنا اس شخص پر واجب ہے۔ اس دن زیارت جامعۃ الکبیرۃ ترجمے کے ساتھ پڑھی جائے، تاکہ معرفت اہلبیت علیھم السلام میں اضافہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں