7

ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی

تندرستی ہزار نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہر ذی ہوش پے لازم و ملزوم ہے اچھی زندگی کا راز اچھی صحت میں پوشیدہ ہے صحت مند آدمی صحت مند معاشرہ تشکیل دیتا ہے زندگی کی دوڑ میں صحتمند انسان ہی حصہ لے سکتا ہے اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے سکتے ہیں
ایک صحتمند انسان اللّٰہ کی عطا کردہ نعمتوں کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنی آنیوالی نسلوں کیلئے صحتمندانہ ماحول پیدا کرتا ہے
انسان تب ہی صحتمند رہ سکتا ہے جب وہ اپنی غذا کا خیال رکھتا ہے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر من وعن عمل کرتا ہے ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے انسان کی ذہنی وجسمانی صحت بہت ضروری ہے
بیمار انسان کو طبی سہولیات فراہم کرنے میں کسی بھی ہسپتال کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے اور اگر بات کریں ہم اپنے دارالحکومت کی تو یہاں دو بڑے ہسپتال موجود ہیں اسوقت دو بڑی عمارتوں میں موجود ہسپتال شیخ زید بن الحنان اور عباس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز جس پر ضلع مظفرآباد ,نیلم اور جہلم اور دیگر ملحقہ قریبی اضلاع کی طبی سہولیات کی فراہمی کا دارومدار ہے ان اضلاع کی آبادی 10 سے 11 لاکھ کے لگ بھگ ہے 8اکتوبر 2005 کے ہولناک ذلزلے میں سی ۔ایم۔ایچ کی مکمل تباہی اور عباس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسزکی جزوی تباہی سے عوام دربدر ہوئے تو وہیں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ دوست ممالک کی مدد سے نئے اور جدید طرز کے ہسپتال قائم کئے گئے جن میں شیخ زید بن العیان جوکہ پہلے 500 بیڈ کا ہسپتال بنانے کی تجویز تھی بعد میں 250 بیڈ کا ہسپتال قائم کر دیا گیا جس میں اسوقت جدید سہولیات سے آراستہ طبی مشینری بھی نصب کی گئی جن میں ایکسرے مشین ,ایم۔آر۔آئی مشین ,لیتھو ڈپسی مشین اور دیگر آلات بھی شامل ہیں جن سے دوبارہ طبی کام کا آغاز کیا گیا
اس وقت ہسپتال میں تقریباً 700 کے قریب سٹاف موجود ہے جن میں میل اور فی میل شامل ہیں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سر انجام دے رہے ہی
اسی طرح عباس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسزجوکہ ذلزلے میں جزوی نقصان کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا جو 300 بیڈ پر مشتمل ہے اور اس میں 250 سے 300 ڈاکٹر اور سٹاف میل فی میل اپنے فرائض بخوبی سرانجام دے رہیں ہیں اور تقریباً 36 کروڑ کا بجٹ استعمال کر رہا ہے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کروڑوں روپے کے بجٹ استعمال کرنیوالے ان ہسپتالوں کی حالتِ زار آج یہ ہے کہ عباس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل میں برائے نام آئی۔سی۔یو تو موجود ہے لیکن 6 سے 8 بیڈ پر مشتمل آئی ۔سی ۔یو میں مریضوں کی جان بچانے کیلئے وینٹیلیٹر کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ ان بڑے اداروں اور اونچی عمارتوں میں جب مریض ذندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتا ھے تو اسکے ورثاء کو وینٹیلیٹر کی تلاش میں لگا دیا جاتا ہے یا پھر ان کو سی ۔ایم ۔ایچ میں منتقل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔سی ۔ایم ۔ایچ مظفرآباد میں بھی اگر کوئی مریض پہلے سے وینٹیلیٹر پر موجود ہو تو پھر یا تو اسکی موت کا انتظار کیا جاتا ہے یا اسکی صحتیابی کیلئے دعا کا کہا جاتا ہے اس پرستم ظریفی کہ وہاں بھی اس صورتحال کے پیشِ نظر پھر ورثاء کو ایبٹ آباد یا راولپنڈی کا لولی پاپ دے کر بہلا دیا جاتا ہے ورثاء اپنے پیاروں کی جان بچانے کی خاطر پنڈی یا ایبٹ کا رخ کرتے ہیں تو کئی مرتبہ اپنے پیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یہ سب حالات دیکھتے ہوئے کئی بار آنکھیں اشکبار ہو تی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے مگر ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں انہیں قافلہ لٹ جانے کا انتظار ہے دل ,آنکھیں ,جذبات رکھنے کے باوجود انکے سامنے کئی گھروں کے چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں کئی معصوم جانیں انکی لاعلمی کے باعث اندھیروں کے مسافر بنے مگر صد افسوس کہ ہمارے وزراء اپنی اپنی کرسیاں بچانے میں مصروف ہیں اگر خدانخواستہ 2005 جیسا قیامت خیز ذلزلہ پھر آیا تو ان ہسپتالوں میں عوام کی جان بچانے کیلئے وینٹیلیٹر کی سہولیات ہی نہ ہوئی تو بلاشبہ لوگ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے جان سے جاتے دیکھنے کیساتھ ساتھ ریاست پر راج کرنیوالے ان بے رحم حکمرانوں کو بددعائیں ہی دیں گے عوام کو فری ایمرجنسی سروس کی سہولت فراہم کرنا یقیناً موجودہ حکومت کا احسن اقدام ہے لوگوں کی توجہ کے مرکز ان دو ہسپتالوں شیخ زید بن العینان اور عباس انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جہاں آئی سی یو کی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے وہاں ہی عباس انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جدید طرز کے آئی سی یو کے قیام کے ساتھ وینٹیلیٹر کی سہولت بھی فراہم کی جائے تاکہ آنیوالے وقتوں میں کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے
اگر وزیراعظم آذادکشمیر اور وزیر صحت اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کیلئے ذاتی طور پر اپنا کردار ادا کریں اور ایک خطیر رقم مختص کرکے ان ہسپتالوں میں آئی ۔سی۔یو کی ابتر حالت کو بہتر بنائیں تو بلاشبہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں